ذیابیطس میں پرہیز کے اصول
ذیابیطس میں پرہیز کے اصول کا مقصد خون میں شوگر کی حد میں رکھنا، ہمگلوبین کو برقرار رکھنا اور دل، گردے اور آنکھوں کے خطرے کم کرنا ہے۔ کوئی ایک غذا واحد طور پر علاج نہیں، لیکن مضاف شوگر، سفید آٹے اور بھنی تیل کی زیادہ مقدار سے بچنا پہلا قدم ہے۔
پورشن، کھانے کا وقت اور روزانہ حرکت بھی اہم ہیں۔ نیا خوراکی پلان شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر یا غذائی معالج سے دوا، شوگر کی حدود اور دیگر بیماریوں کے مطابق منصوبہ بنائیں۔ عام معلومات مدد اردو پر مل سکتی ہیں، مگر انہیں ذاتی علاج کا متبادل نہ بنائیں۔
| خوراک کا گروپ | بہتر انتخاب | کم کرنے کا انتخاب |
|---|---|---|
| سبزیاں | تازہ اور پخے ہوئے، کم تیل کے ساتھ | زیادہ نمکین اور تیل میں ڈوبے |
| دانے والی چیزیں | بھٹوے کا آٹا، جاؤ اور مکئی | سفید روٹی اور سفید براڈ |
| پھل | پورے پھل کا مناسب حصہ | جوس، مربہ اور شکر ملے پھل |
| پروٹین | دال، مچھل، مرغی اور دہی | فرائیڈ اور پراسیس شدہ گوشت |
| چربی | زیتون کا تیل، بادام اور پٹک | مکھن، چکن اور بھنی ہوئی چیزیں |
شوگر کی حدود اور کاربہائیڈریٹ کا اثر
کاربہائیڈریٹ گلوکز میں تبدیل ہوتا ہے، اس لیے اس کی مقدار اور معیار دونوں اہم ہیں۔ سفید روٹی، براڈ، مٹھے اور تیزی سے پکنے والے کھانے شوگر کو جلدی بلند کر سکتے ہیں۔ دانے، دال اور سبزیوں میں فائبر زیادہ ہونے سے چینی آہستہ جذب ہوتی ہے اور سیر کا وقت بڑھتا ہے۔
شوگر کی سطح پر نیند، ذہنی دباؤ اور ہلے کا بھی اثر ہوتا ہے۔ سوزش کے حوالے سے آٹو امیون کا تحریک کا مضمون پڑھنا مفید ہے، کیونکہ پھل، سبزیاں اور دالوں والی متوازن غذا صحت پر مثبت اثر کر سکتی ہے۔
پورشن اور کھانے کا وقت
ہر کھانے میں پورشن کا تعین کریں۔ ڈش کا آدھا حصہ نرم سبزیوں، ایک چوتھا حصہ دال، مچھل، مرغی یا دہی اور ایک چوتھا حصہ بھٹوے کے آٹے یا جاؤ سے بنی پکی ہوئی چیزوں کا ہو۔ پھل معمولاً کھانے کے ساتھ آئے اور کھانے سے پہلے اپنے آپ کو بھوکا نہ لگائیں۔
کھانے کے لیے بھوکے وقت تک انتظار نہ کریں اور کھانے کے بعد بہت دیر تک ڈھکلیا نہ رکھیں، خاص طور پر انسولین یا شوگر کی دوا لینے والوں کو۔ شوگر کے اثرات کے مضمون میں شوگر کی حد سے زیادہ بڑھنے کے نتائج بیان کیے گئے ہیں؛ اپنی حدیں ڈاکٹر سے طے کریں اور کھانے سے پہلے اور بعد کی قیمتوں کا بھی موازنہ کریں۔
کاربہائیڈریٹ کے بہتر ذرائع
کاربہائیڈریٹ کی جگہ بہتر قسم کا انتخاب کریں اور ہر کھانے میں فائبر، پروٹین یا ٹھوس چربی شامل کریں تاکہ شوگر تیزی سے نہ بلند ہو۔ روزانہ غذا میں شامل کرنے کے لیے:
- بھٹوے کا آٹا، جاؤ، مکئی اور مکمل دانے
- دال، چنے اور مٹھے بھول جیسے پھلیں
- تازہ سبزیاں، خاص طور پر پتویں سبزیاں
- پورے پھل، جیسے کیوی، سیب اور پیئر
- دھنے، رائی یا پستے کے دانے
ابلی ہوئی یا خشک کھانے کی تعداد بڑھائیں اور پکانے کا طریقہ بہتر بنائیں۔ بھٹوے کی ڈبل روٹی، دانے دار براڈ، سبزیاں اور دال کا سالن پورشن میں کھائیں۔ مضاف چینی اور تیل کی کمی کے لیے:
- سفید روٹی، سفید براڈ اور باریک آٹا
- مٹھے پکے، کیک، کوکیز اور شیرینی
- چائے، کافی یا دودھ میں شوگر کی زیادہ مقدار
- شوگر والے مشرب اور پھل کا جوس
- تلی ہوئی، بھنی ہوئی یا بہت تیل میں بنی چیزیں
پھل یا مٹھا کھانا ہر روز نہیں چھوڑنا ضروری؛ اہم ہے مقدار اور باقاعدگی۔ مٹھے کھانے کی جگہ پھر، دہی یا دانے دار کھانہ رکھیں اور ہفتے میں ایک دو بار معتدل مقدار میں لیں۔
پروٹین، چربی اور کیلوری کا توازن
پروٹین کی ضرورت کے مطابق دال، مچھل، مرغی، انڈے اور کم چربی والا دہی مناسب ہیں۔ گوشت کی زیادہ مقدار، فرائیڈ پروٹین اور پراسیس شدہ گوشت کم کریں۔ گردے کی بیماری ہو تو پروٹین کی مقدار ڈاکٹر سے طے کریں۔
ضروری چربی کو پوری طرح حذف کرنا بھی درست نہیں؛ کیلوری کی ضرورت کے مطابق زیتون کا تیل، بادام اور پٹک کی چھوٹی مقدار چنیں۔ سیر شدہ چربی، مکھن، چکن اور بھنی ہوئی چیزیں کم رکھیں۔ پکانے سے پہلے دیکھیں کہ کھانے میں کتنا تیل پہلے سے موجود ہے، اور مشرب کی جگہ زیادہ تر پانی رکھیں۔
پھل، سبزیاں اور کھانے کا طریقہ
سبزیوں کو بخار یا کم تیل میں پکائیں اور تازہ پھل کو جوس نہ بنائیں۔ پھل کا جوس فائبر کھو دیتا ہے اور شوگر تیزی سے جذب ہوتی ہے، اس لیے پورے پھل کا مناسب حصہ بہتر رہتا ہے۔
کھانے کے دوران ذہن کو کھانے پر قائم رکھیں، ٹی وی کے سامنے کھانا محدود کریں اور ہر چٹکی کے بعد کچھ وقت رکھیں۔ پکنے میں کم تیل اور کم نمک رکھیں، اور مٹھے سالن کے بجائے دال، سبزیاں اور دہی استعمال کریں۔
عادتیں، نقل اور ذہنی تعلق
باقاعدگی، پچھلی نیند اور ذہنی دباؤ کا کنٹرول شوگر کو بہتر رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور دن کا ریکارڈ رکھیں تاکہ شوگر، خواب، وزن اور کھانے کا وقت نظر آئے۔
مومن افراد کے لیے خوراک اور عبادت کے پیش نظر پیمانے کا انتخاب کرتے وقت قرآن پاک کے آداب کی رہنمائی بھی فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ روزے یا کسی دوسرے رکن کے دوران شوگر کی حدود ہر فرد کے لیے مختلف ہوتی ہے، اس لیے ایسا منصوبہ ڈاکٹر سے مشورہ کے بغیر شروع نہ کریں۔
پیمائش اور خود نگرانی
شوگر کی پیمائش اپنے ڈاکٹر کے بتائے ہداف کے مطابق کریں اور کھانے سے پہلے یا بعد کی قیمتیں نوٹ کریں۔ اگر وقت کے ساتھ شوگر بڑھے یا ہلے پر تیزی سے گرے تو پورشن، کاربہائیڈریٹ کی قسم اور دوا کے وقت کو دوبارہ دیکھنے کے لیے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
ہلے کو روزانہ معمول بنائیں اور شدت بڑھانے سے پہلے اپنی صحت کے مطابق مشق چنیں۔ صحت اور طرز زندگی کے بارے میں دیگر خیالات ٹیڈ ایکس فلنت کی تقریروں میں مل سکتے ہیں۔ کل کی کھانے کی صورتحال، شوگر کا وقت اور ہلے کا انتخاب ایک ساتھ دیکھنے سے پرہیز کے اصولوں کو عملی شکل ملتی ہے۔