موبائل اسکرین سے آنکھوں کی حفاظت کے آسان طریقے
موبائل فون روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے، لیکن مسلسل اسکرین دیکھنے سے آنکھوں میں تھکن، خشکی، جلن اور دھندلا پن پیدا ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر کم روشنی میں فون استعمال کرنا، بہت قریب سے دیکھنا اور دیر تک پلکیں کم جھپکانا آنکھوں پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے۔
آنکھوں کو مکمل طور پر اسکرین سے دور رکھنا ہمیشہ ممکن نہیں، تاہم چند سادہ عادات اپنا کر ڈیجیٹل آئی اسٹرین کم کیا جا سکتا ہے۔ مناسب فاصلہ، درست روشنی، وقفے اور نیند کا خیال موبائل استعمال کرنے والوں کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
آنکھوں پر اسکرین کے اثرات اور علامات
موبائل کی اسکرین کو مسلسل دیکھنے سے آنکھوں کے پٹھوں کو قریب کی چیز پر فوکس برقرار رکھنے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ اس کے نتیجے میں آنکھوں میں بوجھ، سر درد، پانی آنا یا عارضی طور پر نظر دھندلانا محسوس ہو سکتا ہے۔
اسکرین دیکھتے وقت پلکیں جھپکنے کی رفتار بھی کم ہو جاتی ہے، جس سے آنکھوں کی قدرتی نمی متاثر ہوتی ہے۔ اگر جلن، درد، روشنی سے شدید حساسیت یا نظر کی خرابی بار بار محسوس ہو تو صرف گھریلو تدابیر پر انحصار کرنے کے بجائے ماہر چشم سے معائنہ کرانا چاہیے۔
فون رکھنے کا درست فاصلہ
موبائل فون کو آنکھوں سے بہت قریب رکھنے کے بجائے تقریباً ایک بازو کے فاصلے پر رکھیں۔ عام طور پر تیس سے پینتیس سینٹی میٹر کا فاصلہ مناسب رہتا ہے، تاہم تحریر اتنی واضح ہو کہ اسے پڑھنے کے لیے فون آنکھوں کے قریب نہ لانا پڑے۔
فون کو آنکھوں کے بالکل نیچے رکھنے سے گردن اور آنکھوں دونوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ کوشش کریں کہ اسکرین آنکھوں کی سطح سے قدرے نیچے ہو، کمر سیدھی رہے اور لیٹ کر مسلسل فون دیکھنے کی عادت سے گریز کیا جائے۔
بیس، بیس، بیس کا اصول
اسکرین کے استعمال کے دوران ہر بیس منٹ بعد کم از کم بیس سیکنڈ کے لیے تقریباً بیس فٹ دور موجود کسی چیز کو دیکھیں۔ اس وقفے سے آنکھوں کے فوکس کرنے والے پٹھوں کو آرام ملتا ہے اور مسلسل قریب دیکھنے کی تھکن کم ہوتی ہے۔
اگر کام کے دوران وقفہ لینا مشکل ہو تو فون میں یاد دہانی یا وقت کا الارم لگا دیں۔ وقفے کے دوران صرف دوسری اسکرین، مثلاً ٹیلی وژن یا کمپیوٹر، کی طرف دیکھنا آرام نہیں دیتا؛ بہتر ہے کہ کھڑکی سے باہر، کمرے کے دور حصے یا کسی قدرتی منظر کو دیکھا جائے۔
روشنی اور اسکرین کی ترتیبات
موبائل استعمال کرتے وقت کمرے میں مناسب روشنی ہونی چاہیے۔ اندھیرے میں روشن اسکرین دیکھنے سے آنکھوں کو روشنی کے فرق کے مطابق خود کو بار بار ڈھالنا پڑتا ہے۔ اسکرین پر براہ راست بلب یا کھڑکی کی روشنی پڑنے سے چمک پیدا ہو تو فون کا زاویہ بدل دیں۔
اسکرین کی چمک ماحول کے مطابق رکھیں اور ضرورت سے زیادہ تیز روشنی استعمال نہ کریں۔ فون میں موجود آرام دہ مطالعے کا انداز، گرم رنگوں کا اختیار اور بڑے حروف آنکھوں پر دباؤ کم کر سکتے ہیں۔ تاہم نیلی روشنی کا فلٹر آنکھوں کی ہر تکلیف کا مکمل علاج نہیں، اس لیے وقفوں اور مناسب نیند کو ترجیح دینا ضروری ہے۔
پلکیں جھپکانے اور نمی کا خیال
موبائل دیکھتے ہوئے جان بوجھ کر پلکیں زیادہ جھپکائیں تاکہ آنکھوں کی سطح پر نمی برقرار رہے۔ اگر آنکھیں خشک محسوس ہوں تو چند لمحوں کے لیے انہیں بند کریں، ٹھنڈی صاف پٹی رکھیں اور پنکھے یا اے سی کی ہوا براہ راست چہرے پر نہ آنے دیں۔
جسم میں پانی کی کمی بھی منہ اور آنکھوں کی خشکی بڑھا سکتی ہے۔ دن بھر مناسب مقدار میں پانی پینے کے لیے پانی پینے کا طریقہ اپنانا عمومی صحت کے ساتھ آنکھوں کی نمی کے لیے بھی مددگار ہو سکتا ہے، اگرچہ پانی کسی بیماری کا فوری علاج نہیں۔
روزمرہ عادات جو آنکھوں کو آرام دیں
چھوٹی مگر مستقل عادات اسکرین سے ہونے والی تھکن کو کم کرنے میں مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔ موبائل کو چہرے کے بہت قریب رکھنے اور غیر ضروری طور پر بار بار اسکرین چیک کرنے کے بجائے استعمال کا واضح وقت مقرر کریں۔
- ہر کچھ دیر بعد نظریں اسکرین سے ہٹا کر دور دیکھیں۔
- فون کی تحریر مناسب بڑا رکھیں تاکہ آنکھیں سکڑنے کی ضرورت نہ پڑے۔
- اسکرین صاف رکھیں تاکہ دھندلے پن اور چمک سے اضافی دباؤ نہ ہو۔
- آنکھوں کو رگڑنے کے بجائے صاف پانی سے چہرہ دھوئیں۔
- کام کے دوران گردن، کندھوں اور ہاتھوں کو بھی وقفہ دیں۔
کافی نیند، متوازن غذا اور جسمانی سرگرمی بھی آنکھوں کی مجموعی صحت میں کردار ادا کرتی ہے۔ سبز پتوں والی سبزیاں، پھل، انڈے، مچھلی اور گری دار غذائیں مناسب مقدار میں لینا مفید ہو سکتا ہے، لیکن کسی مخصوص سپلیمنٹ کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہیں کرنا چاہیے۔
بچوں اور رات کے استعمال میں احتیاط
بچے موبائل کو بہت قریب لا کر دیکھتے ہیں اور اکثر وقت گزرنے کا احساس نہیں کر پاتے، اس لیے والدین کو استعمال کے اوقات، فاصلہ اور روشنی پر نظر رکھنی چاہیے۔ پڑھائی یا تفریح کے دوران وقفے مقرر کیے جائیں اور فون کو سونے کے کمرے میں لے جانے کی عادت کم کی جائے۔
رات کو اسکرین دیکھنے سے ذہن زیادہ دیر تک متحرک رہ سکتا ہے اور نیند کا معمول متاثر ہو سکتا ہے۔ نیند کی کمی جسمانی و ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے، اس لیے سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے موبائل ایک طرف رکھنا بہتر ہے۔
- سونے سے پہلے فون کو بستر سے دور رکھیں۔
- بچوں کے لیے عمر کے مطابق روزانہ اسکرین کا وقت مقرر کریں۔
- گاڑی، چلتے راستے یا کھانے کے دوران مسلسل فون دیکھنے سے گریز کریں۔
- آنکھوں میں درد، مستقل دھندلا پن یا دوبارہ دوبارہ سر درد ہو تو معائنہ کرائیں۔
مسلسل احتیاط کا مقصد موبائل فون چھوڑنا نہیں بلکہ اسے صحت مند طریقے سے استعمال کرنا ہے۔ مناسب فاصلہ، متوازن روشنی، باقاعدہ وقفے، پلکیں جھپکانا اور پرسکون نیند مل کر آنکھوں کو غیر ضروری دباؤ سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔